پارلیمنٹ میں قادیانی شکست Arshad Mehmood
اور آج مولانا کی انتقال کہ روح فرسا خبر ملی
مصنف : جون اسٹین بیک (John Steinbeck)
مصنف | ویل ڈیورانٹ
زیر بحث کتاب سے قبل ڈاکٹر صاحب "اسلامی اور مغربی تہذیب کی کشمکش(فکرِ اقبال کے تناظر میں) کے عنوان سے اپنے مطالعات پیش کر چکے ہیں جو ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کی کتابی صورت ہے
قرۃ العین حیدر کے ناولوں | نعمان نذیر
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
آخر کار انسان نے لاکھوں سال کے تلخ تجربات کے بعد سمجھا کہ
علمی مضامین کا ترجمہ کرتے ہوئے جو مشکلات پیش آتی ہیں، اس کا اندازہ مترجم کو ہوتا ہے۔ اس لیے اصطلاحات کی غیر موجودگی میں، جب نئی اصطاحیں وضع کی جائیں تو وہ یقینا مسائل پیدا کرتی ہیں۔ لیکن مترجمین نے اس بات کی پوری کوشش ہے کہ جہاں تک ہو سکے سادہ اور واضح ترجمے میں حمزہ علوی کے مطالب کو بیان کیا جائے۔
کتاب کے پہلے باب میں بلوچستان کی وسیع وعریض سرزمین کے حدود اور جغرافیائی اہمیت کا ایک انتہائی اہم نقشہ کھینچا گیا ہے جس میں دریاوں سے لیکر درے، پہاڑ، ریگستان اور کہی دیگر اہم چیزوں کو زیر تحریر لائی گئی ہے۔ کتاب ہذا کے مطابق بلوچستان وہ خطہ ہے جہاں سے سکندر اعظم کے تینوں قافلوں میں سے ایک بلوچستان کے درہ مولہ اور وہ خود مکران سے ہوتے ہوئے ایران واپس گئے تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتی ہے کہ جنوبی ایشیاء اور مغربی ایشیائی ممالک کے درمیان بلوچستان پل کا کام کرتی ہے جہاں ممالک بحر ہند سمیت مختلف ممالک سے جڑ سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کو افغانستان تک جانے کیلئے سب سے پہلے ریاست قلات کو یرغمال کرکے قبضہ اور اپنے زیر کرنے کی ضرورت محسوس پڑی۔
یہ تنقیدی سوچ اور آزادنہ دلائل دینے کے بارے میں ہے۔ یہ اُن بہادر مردوں اور عورتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے بادشاہت اور کلیسا دونوں کے دعووں، خیالات اور عقائد پر سوالات اٹھانے، انکو چیلینج کرنے، یہاں تک کہ انھیں شکست دینے کی جرات کی۔ یہ کتاب بنی نوح انسان کی زندگی کے معانی اور مقاصد سمجھنے سے متلعق ہے اور آخر میں یہ اُ س سوچ اور رد عمل کی حمایت کرتی ہے جس نے جمہوریت اور مرد وزن کے حق خود اختیاری کو جنم دیا تا کہ و اپنی بہترین استعداد کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ و دوسروں کو(خود سے) مختلف رہنے اور اپنی رائے کا اظہار کھلے عام اور انتقام کے خوف کے بغیر کرنے کی آزادی دیں۔
انوی 100 چراسی | ۱۹۸۴ | جاوید آصف |
ماتا ہری کی لاش کو ایک اتھلی قبر میں دفن کیا گیا جس کا کوئی نشان نہیں تھا، اور جیسا کہ اس وقت فرانس میں رواج تھا، اس کا سر کاٹ کر حکومتی نمائندوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس کا سر پیرس میں Rue Saint-Pierre کے Musée d'Anatomie میں کئی سالوں تک رکھا گیا یہاں تک کہ یہ نامعلوم تاریخ کو غائب ہو گیا۔ یہ 2000 تک نہیں تھا کہ میوزیم کے اہلکاروں نے دیکھا کہ سر غائب ہے۔