Aap Ka Bacha Kamyab Ho Sakta Hai By Qasim Ali Shah Fyodor DostoyevskyAap Ka Bacha Kamyab Ho Sakta Hai By Qasim Ali Shah
When I Look At The Militant Attitude And Its Cross-Border Linkages With Ignorance In Afghanistan
شاہ محمد مری اپنی تحریر کو بلوچ کے دل کی کسک اور بلوچی زبان کی ضرب المثل دونوں سے ایک نیا رنگ آہنگ دیتا ہے۔ دو بھائی اور تیسرا حساب۔ گھر میں حساب کتاب نہ ہو تو وہ گھر برباد ہو جاتا ہے۔
ISBN 9786273002385
کیٹپلزم وہ آکاس بیل ہے جو ہرے بھرے درخت پر ایسا جالا بنتی ہے کہ اس پر درد مندی اور انسانیت کے شگوفے کھلنا بند ہو جاتے ہیں۔
صفحات: 910
"پنجاب میں واپسی" پرکاش ٹنڈن کی سوانح حیات ھونے کے ساتھ ساتھ تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستان کے پہلے پچیس برس کے دوران وہاں کی سیاست اور معیشت کے مختلف پہلووں پر ایک عمدہ تبصرہ بھی ھے۔ اسی دوران مصنف کو پاکستان آنے کا موقع بھی ملا جہاں وہ اپنی جنم بھومی گجرات کے علاوہ لاھور، کراچی اور بہاولپور بھی گئے جہاں ان کا بچپن اور لڑکپن گزرا تھا۔
One of Dostoyevsky's most politically charged works
ناول کا کردار اروڑہ سماج کے عام آدمی کا نمائندہ ہے۔ مسجد سے کوزہ چوری کرنے کے بعد جو سلوک اس سے روا رکھا جاتا ہے اُس سے ڈر، خوف سراسیمگی اور دہشت زندگی ساری عمر اس کے اندر سانس لیتی رہتی ہے۔ سکول، کالج اور پھر بیرونِ ملک نوکری کرتے ہوئے لگتا ہے یہ بلائیں اس کے ساتھ جو ان ہو رہی ہیں۔ اس کردار کی پرداخت کے ساتھ ساتھ اس ملک کی تاریخ بھی رواں دواں نظر آتی ہے۔
گورباچوف نے 1986ءمیں اِس جنگ کو ’’خون رستا زخم‘‘ قرار دیا، اس لئے اُنھوں نے افغانستان مکمل طور پر چھوڑ دینے کا دلیرانہ فیصلہ کیا تھا۔امریکی پالیسی میں اسلامی دنیا کی پُرامن لیکن مایوس اکثریتی آبادیوں سے تعلق، جمہوریت، تعلیم اور معاشی ترقی کے لیے حکمت عملی کا بھی فقدان نظر آیا۔ اِن اہم ترجیحات کی بجائے واشنگٹن نےاکثر مسلم ممالک میں غیر جمہوری اور بد عنوان حکومتوں کی حمایت کی۔ حتیٰ کہ اِن ممالک میں مایوسی کا شکار متوسط طبقہ، اپنی معاشی، سماجی اور بہترسیاسی نظام کے لئےپریشان رہا۔ پس پردہ کہانی میں بنیادی اداکار ’’سی آئی اے‘‘ کا ہی تھا۔ جس نے 1980ء کی دہائی میں افغانستان میں سوویت مخالف جہاد کو شکل دی۔ پھر پیسوں کے ذریعے اُسامہ بن لادن کو 1990ء کی دہائی کے آخر میں پکڑنے اور مارنے کی خفیہ مہم چلائی۔ 11؍ستمبر سے دو برس قبل ’’سی آئی اے ‘‘ اِنسدادِ دہشت گردی مرکز نے اُسامہ بن لادن کے خلاف احمد شاہ مسعود اور دیگر افغانیوں کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔امریکا کا بنایاگیا ہیرو
سنت تلسی داس کا بڑھیا کہت ہیں کہ
’یہ شخص پاکستان کا فیدل کاسترو ہے۔ اگر قبائلی سردار اور نواب دل سے اس کے ساتھ ہوں تو یہ واقعی بلوچستان کو کیوبا بنا دے۔ مگر یہ دیوانہ اکیلا ہے اور اکیلا ہی رہ جائے گا۔‘
زیر نظر مقالہ جو آپ کے سامنے کتابی شکل میں موجود ہے ، زیست کے دھندلکے دائروں میں ٹیڑھی اور ترچھی لکیروں سے نئے دائروں اور زاویے بنا کر افسانے کو فلسفیانہ فکر کے زنداں میں مقید کرنے کے سعی کی گئی۔ اکیسوی صدی کے افسانے کی فلسفیانہ فکر کی وسعت اور حقیقت کو اجاگر کرنے کی سعی میں محنت اور تھکن کے احساس کے ساتھ سرشاری اور شکر بجالانے کے تمام تر احساسات میں جو فرحت و انبساط کی خوشبو شامل ہے ۔ وہ خدائے بزرگ و برتر کی عنایت ہے جس نے کائنات کے چہار سو لگن اور تعبیر کی حقیقت میں بدلنے کا فکری طریقہ رائج کیا ہے۔