Bari Manzil Kay Musafir by Qasim Ali Shah Professor Arshad Javed.Bari Manzil Kay Musafir By Qasim Ali Shah
اقبالؒ کے پیام اور فکر کا انتہائی عمیق تجزیہ
جناب مشتاق عادل کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے پنجابی کشن کو اردو میں تر جمانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس سے پہلے وہ محترم افضل احسن رندھاوا کے ناول دو آبہ کا اُردو میں ترجمہ کر چکے ہیں ۔ آج تک پنجابی فکشن کو اُردو قارئین تک پہنچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ سندھی اس لحاظ سے خوش قسمت زبان ہے کہ اس میں لکھنے والے ایک طرف قابل قدر بین الاقوامی فکشن کو سندھی میں جلد از جلد ڈھالنے کی تگ و دو کرتے ہیں اور دوسری طرف سندھی زبان کے فکشن کو اُردو میں منتقل کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی ادبی رسالے کو اٹھا کر دیکھ لیں اس میں سندھی فکشن ضرور موجود ہوگا۔
" and Shirley Jackson's "The Lottery" alongside stunners to be rediscovered
معاشرہ محض ایک تصور ہے جبکہ فرد حقیقت ہے۔
محترم حسین شاہد کے پنجابی ناول ڈراکل کے اُردو تر جے ڈرپوک سے دیگر قومی زبانوں کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں گے۔ دوسری طرف پنجاب کے وہ اُردو لکھاری جو اپنی مادری زبان پڑھنے سے قاصر ہیں انھیں بھی پنجابی فکشن پڑھنے کی سہولیت میسر ہو جائے گی۔ محترم شاہد حسین شاہد پنجابی کے قدآور ادیب ہیں۔ اُن کی کتابوں میں لا پریت ( کہانیاں ) پورنے (تنقید) ، ڈراکل (ناول)، عشق تے روٹی (شاعری) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کچھ اُردو کتا بیں بھی لکھی ہیں۔ وہ چالیس پینتالیس سال تک بالینڈ میں مقیم رہے، وہ کہا کرتے تھے کہ وطن عزیز میں رہنے کے لیے جو خاص قسم کی قابلیت درکار ہے اُس سے وہ محروم ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے پنجابی زبان سے اپنا رشتہ جوڑے رکھا۔
سرمایہ دارانہ نظام ایک المناک کہانی اروندھتی رائے کی ایک مشہور کتاب ہے جو عالمی سرمایہ داری کے نظام، اس کے اثرات ، اور اس کے اندھیرے پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب سرمایہ داری کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے چھپے ظلم و استحصال کی کہانی بیان کرتی ہے اور اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ یہ نظام کسی طرحدولت، وسائل، اور اختیارات کو مٹھی بھر افراد کے ہاتھوں میں مرتکز کرتا ہے ، جب کہ عام عوام کے لیے استحصال اور نا انصافی کے دروازے کھولتا ہے۔
پھالیہ ، کھاریاں ، لالہ موسیٰ ، جلالپور جٹاں ، کوٹلی ، بھمبر ، کنجاہ ، ڈنگہ ، شادیوال سمیت
and philosophy
کتاب پسماندہ قوموں کی سیاست میں حکمرانی، اقتصادی انتظام، بیرونی تعلقات، فوجی قیادت، اور اس میں شامل تمام اقوام کے لیے انقلابی رجحانات کا احاطہ کیا گیا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ تیسری دنیا میں سیاسی اور معاشی انتظام اور احتساب کے مغربی ادارے کتنے کمزور ہیں، اور دوسری طرف، تیسری دنیا کے رہنما ترقی یافتہ صنعتی ممالک پر کس قدر منحصر ہیں۔
تحقیق و ترتیب : ڈاکٹر امجد علی بھٹی
بیویوں کے لئے مشہور کہاوت تھی۔ ’اگر تم ایک کتے سے شادی کرو تو کتے کی پیروی کرو۔ اگر تم ایک مرغے سے شادی کرو تو مرغے کی پیروی کرو‘۔ (ص: ۶۷۱)
چین کے ماضی میں طویل سلسلے شہنشاہت اور فیوڈلزم کے ہیں۔ محلات کا ذکر آتا ہے تو شیطان کی آنت کا خیال بھی آتا ہے۔ بارہ ہزار مربع میٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے شہرِممنوعہ کے امپیریل پیلس کی رسائی اب ٹکٹوں سے ممکن ہے۔